نئی دہلی13اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) الیکشن کمیشن نے آفس آف پرافٹ ( فائدہ کا عہدہ ) معاملہ میں عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی کی زبانی سماعت کے لیے 17 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے اراکین اسمبلی کو بھیجے مکتوب میں کہا ہے کہ وہ 17 مئی کو دوپہر 3 بجے خود پیش ہو کر اپنا موقف رکھیں یا پھر اپنے وکیل کو بھیجیں۔ غور طلب ہے کہ 23 مارچ کو ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے اس حکم کو منسوخ کر دیا تھا جس میں عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی کی رکنیت فائدہ کے عہدہ معاملہ میں ختم کی گئی تھی۔ عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی کی دلیل تھی کہ الیکشن کمیشن میں ان کی سماعت نہیں ہوئی اور ممبران اسمبلی کو اپنا موقف رکھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے آپ کے 20 ممبران اسمبلی کو راحت دیتے ہوئے نااہلی کے متعلق اطلاع کو منسوخ کر دیا تھا۔ فیصلہ کے وقت ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پھر سے اس معاملہ پر سماعت کرنے کو کہا تھا۔ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو جہاں عام آدمی پارٹی نے سچائی کی جیت بتایا تھا وہیں کانگریس کے اجے ماکن نے کہا تھا کہ عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی کو فوری راحت دی گئی ہے ۔ عام آدمی پارٹی کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہائی کورٹ نے صدرجمہوریہ کے فیصلہ کو منسوخ نہیں کیاہے ۔ ہائی کورٹ نے یہ نہیں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ آیا ہے، وہ غلط ہے۔ آپ کو ہائی کورٹ سے فوری راحت ملی ہے ۔ غور طلب ہے کہ آپ ممبران اسمبلی کو 19 جنوری 2018 کو الیکشن کمیشن نے فائدہ کے عہدے کے الزام میں نااہل قرار دیا تھا، جس کے بعد صدر جمہوریہ نے الیکشن کمیشن کی تجویز پر مہر لگاتے ہوئے تمام 20 ممبران اسمبلی کو نااہل قرار دیا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ آپ کے ان 20 ممبران اسمبلی دہلی حکومت نے پارلیمانی سیکرٹری مقرر کیا تھا۔